25 مئی 2013 - 19:30
برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ

لندن کے مشرقی علاقے وولچ میں بدھ کو ایک برطانوی فوجی ڈرمر کی ہلاکت کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

ابنا: لندن کے مشرقی علاقے وولچ میں بدھ کو ایک برطانوی فوجی ڈرمر کی ہلاکت کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔فیتھ میٹررز نامی چیرٹی کے ڈائریکٹر فیاض مغل نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز ایک برطانوی فوجی کی ہلاکت کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد کے ایک سو باسٹھ واقعات پیش آئے ہیں جبکہ اس سے پہلے روزانہ ایسے پانچ سے چھ واقعات رپورٹ کیے جاتے تھے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات میں مساجد پر حملے، دیواروں پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے، مسلمان عورتوں کے حجاب کو کھینچنے، مسلمانوں کوگالیاں دینا اور مختلف ناموں سے پکارنے کے واقعات شامل ہیں۔برطانوی پولیس نے متعدد افراد کو سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد چھاپنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔برطانوی فوجی ڈرمر لی رگبی کو بدھ کے روز وولچ کی بارکوں کے نزدیک بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا تھا۔فوجی کی ہلاکت کے بعد اٹھائیس سالہ مائیکل ادیبلاجو کو یہ کہتے ہوئے کمیرہ پر ریکارڈ کیا کہ اس نے افغانستان اور عراق میں برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کےقتل کا بدلہ لیا ہے۔ ادیبلاجو نے کئی سال قبل اسلام قبول کیا تھا۔دوسرے مشتبہ شخص مائیکل ادیبوالے پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہو گئے تھے اور اب دونوں کا ہسپتال میں کڑے پہرے میں علاج ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی تربیت اور انھیں فنڈ فراہم کرنے میں برطانوی حکومت کا کردار نمایاں ہے اور بہیمانہ حملوں میں ملوث دہشت گرد درحقیقت امریکی اور برطانوی پروردہ لوگ ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم سازش کررہے ہیں۔
.......
/169